ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے سے پہلے ہی یڈی یورپا نے کیا استعفیٰ کا اعلان؛ 55 گھنٹوں تک بنے وزیراعلیٰ نے جذباتی تقریر میں ادا کیا مودی کا شکریہ

اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے سے پہلے ہی یڈی یورپا نے کیا استعفیٰ کا اعلان؛ 55 گھنٹوں تک بنے وزیراعلیٰ نے جذباتی تقریر میں ادا کیا مودی کا شکریہ

Sat, 19 May 2018 16:36:42    S.O. News Service

بنگلور19/مئی (ایس او نیوز) کرناٹک میں اعتماد  کی تحریک شروع ہونے  سے پہلے ہی بی جے پی کی حکومت گر گئی.55 گھنٹے پہلے وزیراعلیٰ کا حلف لینے والے  بی ایس یڈی یورپا  نے وزیر اعلی کے عہدے سے استعفی دے دیا. دراصل بی جے پی رہنما  اسمبلی میں درکار  اعداد و شمار جٹا نہیں پائے   جس  کو بھانپتے ہوئے  انہوں نے ارکان اسمبلی کا  شکتی کا مظاہرہ کرنے  سے پہلے ہی  اپنے عہدے سے  استعفیٰ  کا اعلان کردیا.

ان کے استعفیٰ پیش کرتے ہی ریاست میں کانگریس۔جے ڈی ایس گٹھ بندھن سرکار کے لئے راہ ہمور ہوگئی ہے ، جس کے لئے کانگریس نے کماراسوامی کا نام وزیراعلیٰ کے لئے پیش کرچکے ہیں۔ کانگریس۔جے ڈی ایس گٹھ بندھن نے گورنر کو اپنے پاس 118 اراکین اسمبلی کی حمایت ہونے کے تعلق سے لیٹر بھی سونپ چکے ہیں۔

یڈی یورپا نے اعتماد کی تحریک شروع ہونے سے پہلے ایک جذباتی تقریر کی جس میں انہوں نے وزیراعظم مودی کا شکریہ ادا کیا۔ پھر اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ اس سے قبل  اسمبلی میں یڈی   یورپا نے کہا کہ آج بی جے پی کے پاس  113 نشستیں ہوتی تو  نظارہ ہی  کچھ اور ہوتا. یڈی یورپا  نے کہا کہ ریاست میں  جلد ہی انتخابات ہوں  گے. مزید کہا کہ عوامی  مینڈیٹ کانگریس اور جے ڈی ایس کے خلاف ہے. ان کے مطابق  ہم نے ریاست میں دو سال تک سفر کیا  ہے اور حالات کو جاننے کی کوشش کی ہے۔

بی جے پی کے 104 ارکان اسمبلی اس موقع پر ودھان سودھا میں موجود تھے، وہیں کانگریس۔ جے ڈی ایس کے بھی سبھی ارکان اسمبلی ودھان سودھا میں موجود تھے۔ ودھان سودھا میں ہونے والی کاروائی تقریبا تمام کنڑا نیوز چینلس میں لائیو کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے عوام کی کثیر تعداد پوری   کاروائی کو دیکھ رہے تھے۔

واضح رہے  کہ 15 مئی کو ہوئی ووٹوں کی گنتی اور نتائج کے بعد سے ہی کرناٹک کی سیاسی تپش نے ملک  کا ماحول گرما دیا تھا، یڈی یورپا کے استعفیٰ کے بعد اب کانگریس ۔جےڈی ایس کے پوسٹ پول الائنس کے لئے راستہ صاف ہوگیا ہے۔ 

یڈی یورپا نے اپنی جذباتی   تقریر میں کیا خاص بات کہی:
- پی ایم اور امت شاہ نے مجھے سی ایم امیدوار بنایا
-ایسا شاید پہلی بار ہوا جب  کسی پی ایم نے سی ایم کے اُمیدوار کا اعلان کیا ہو۔
-پی ایم  مودی نے کرناٹک کی کافی مدد کی.
-آج ہماری اگنی پریکشا ہے۔
- میں کرناٹکا  کے ووٹروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں

- میں اپنی آخری سانس تک  کسانوں کے لئے لڑتا رہوں گا
ملک کو ایماندار رہنماؤں کی ضرورت ہے
 میں ریاست کے عوام کے پاس  جاؤں گا اور دوبارہ جیت کر واپس آؤں گا
اگلے سال ہونے والے  لوک سبھا انتخابات میں  28 میں سے  28 نشستیں جیتوں گا۔

خیال رہے کہ کرناٹک کی 224 ارکان  اسمبلی میں 222 نشستوں پر  انتخابات منعقد ہوئے تھے. 2 نشستوں پر بعد میں انتخابات ہوں گے۔ جس میں  جے ڈی ایس  کے رہنما کمارسوامی نے 2 نشستوں پر  جیت درج کی تھی ۔  اس حساب سے سرکار بنانے کے لئے   221 نشستوں  میں جادوئی ہندسہ  111 ایم ایل اے کی حمایت  ضروری تھی۔ بی جے پی کے پاس  104 ایم ایل اے تھے جبکہ پوسٹ پول الائنس کا دعویٰ تھا کہ کانگریس-جے ڈی  ایس  اور دیگر ارکان اسمبلی ملاکر گٹھ بندھن کے پاس 118 ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔

کرناٹکا کا یہ ہائی  پروفائل معاملہ   سپریم کورٹ تک بھی جا  پہنچا . جب گورنر نے کانگریس۔جے ڈی ایس گٹھ بندھن کو مدعو کرنے کے بجائے  سب سے بڑی پارٹی کے روپ میں 104 سیٹیں رکھنے والی   بی جے پی کو سرکار بنانے کی دعوت دی۔  گورنر کے اس اقدام پر کانگریس-جے ڈی ایس   حلف برداری تقریب رُکوانے کے لئے سپریم کورٹ پہنچ گئی ۔  سپریم کورٹ نے حلف برداری پر روک لگانے سے انکار کردیا لیکن اکثریت ثابت کرنے کے لئے 14 دنوں کی مہلت کو  گھٹا کر ایک دن کردیا۔ سپریم کورٹ نے آج سنیچر شام چار بجے تک بی ایس یڈی یورپا کو اکثریت ثابت کرنے کا حکم دیا تھا۔

مگر بی جے پی کے رہنما بی ایس یڈی یورپا حکومت بنانے کے لئے درکار 111 کا جادوئی ہندسہ حاصل کرنے میں ناکام رہے، جس کی وجہ سے انہوں نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے سے پہلے ہی اپنی ہار مان لی اور وزیراعلیٰ کے عہدے سے  مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔


Share: